شمالی بیت المقدس کے علاقے عناتا کی رہائشی رائدہ سعید طویل عرصے سے مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں یہودی موجودگی کے خلاف سرگرم فلسطینی کارکن رہی ہیں۔ انہیں اشتعال انگیزی اور اس انتظامی حکم کی خلاف ورزی پر ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جو انہیں اس مقام میں داخل ہونے سے منع کرتا تھا۔ عدالت کے مطابق وہ جنوری 2026 کے آغاز میں اپنی سزا کاٹنا شروع کریں گی۔
رائدہ سعید الاقصیٰ کے احاطے میں کیسے سرگرم رہیں؟
رائدہ سعید، جن کی عمر 51 برس ہے اور وہ تین بچوں کی ماں ہیں، خود کو صحافی اور شوقیہ فوٹوگرافر قرار دیتی ہیں۔ وہ ایک فلسطینی ریڈیو اسٹیشن میں کام کرتی ہیں۔ وہ مرابطات نامی اس خواتین گروہ کا حصہ ہیں جو خود کو مسجد الاقصیٰ کا محافظ سمجھتا ہے۔ یہ خواتین روزانہ احاطے میں موجود رہتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی موجودگی مسلمانوں کے مقدس مقام کی حفاظت کرتی ہے۔ تاہم عملی طور پر ان کا مقصد یہودی زائرین کو ہراساں کرنا، ان کے داخلے میں خلل ڈالنا اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے فلسطینی عوام میں اشتعال پھیلانا ہوتا ہے کہ مسجد مبینہ خطرے میں ہے۔
رائدہ سعید اکثر قبلہ اول کے صحن سے اپنے مشاہدات سوشل میڈیا پر شیئر کرتی تھیں، اپنے پیروکاروں کو وہاں آنے اور مسجد کا "دفاع” کرنے کی ترغیب دیتی تھیں۔ اس سرگرمی کی وجہ سے وہاں کے نظم و ضبط کے ذمہ دار پولیس اہلکار اکثر انہیں مقام سے ہٹا دیتے تھے، اور بعض اوقات زبردستی گھسیٹ کر باہر لے جاتے تھے۔ بیت المقدس کے ضلعی پولیس کمانڈر نے ان کے خلاف متعدد انتظامی پابندی کے احکامات جاری کیے، لیکن رائدہ سعید مسلسل ان احکامات کی خلاف ورزی کرتی رہیں، احاطے میں داخل ہوتی رہیں اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شیئر کرتی رہیں۔ 2020 سے اب تک انہیں کم از کم سات مرتبہ زبردستی صحن الاقصیٰ سے ہٹایا جا چکا ہے۔
2023 میں، جب انہوں نے پابندیوں کی خلاف ورزی جاری رکھی، تو ان پر اشتعال انگیزی اور انتظامی احکامات کی خلاف ورزی کے الزامات میں مقدمہ چلایا گیا۔ بیت المقدس کی مجسٹریٹ عدالت نے انہیں قانونی کارروائی مکمل ہونے تک گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا، جس سے ان کی سرگرمیاں رک گئیں۔ اس بدھ کو عدالت نے انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی۔


